پیر 18 مئی 2026 - 19:11
کسی بھی مذہب کے مذہبی مقامات و عبادت گاہوں پر بزور طاقت قبضہ کرنا شرافت انسانی کے منافی ہے: مولانا علی حیدر فرشتہ

انہوں نے کہا: مدھیہ پردیش کے شہر دھار میں واقع قدیم مسجد مولیٰ کمال پر مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کا فیصلہ تاریخی ثبوت و شواہد کے خلاف یے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ بھوج شالہ-کمال مولا مسجد تنازعہ پر مدھیہ پردیش ہائی کورٹ اندور بنچ کا حالیہ فیصلہ، جس میں بھوج شالا کمال مولا مسجد کو کمپلیکس سرسوتی مندر قرار دیا گیا، غلط، غیر منصفانہ، تاریخی شواہد، سرکاری ریکارڈز کے خلاف اور خود محکمہ آثار قدیمہ (ASI) کے سابقہ موقف سے متصادم مانتا ہے۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے ایک پریس بیان میں بھوج شالہ-کمال مولا مسجد تنازعہ پر مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے فیصلہ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ تاریخی شواہد، تاریخی ریوینیو ریکارڈس، نوآبادیاتی دور کے دستاویزی ریکارڈس اور صدیوں پر محیط مسلم عبادتی تعلق کے برخلاف ہے۔ مزید برآں یہ فیصلہ عبادت گاہوں سے متعلق قانون (Places of Worship Act 1991) کی روح سے بھی راست متصادم ہے۔

مجمع علماء و خطباء حیدرآباد دکن کی جانب سے بھی مدھیہ پردیش کے شہر دھار میں واقع قدیم مسجد مولیٰ کمال پر مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کا فیصلہ تاریخی ثبوت و شواہد کے خلاف اس لیے ناقابل قبول ہے۔

حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا علی حیدر فرشتہ سرپرست اعلیٰ مجمع علماء و خطباء حیدرآباد دکن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کسی بھی مذہب کے مذہبی مقامات و عبادت خانوں پر بزور طاقت زبردستی قبضہ کرنا شرافت انسانی کے منافی اور سراسر ظلم و ناانصافی ہے۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور مسجد مولیٰ کمال مدھیہ پردیش کی انتظامیہ کمیٹی اب سپریم کورٹ میں مدھیہ ہائی کورٹ کے متنازعہ فیصلہ کے خلاف چیلنج کرنے کی تیاری میں ہے۔ بہرحال ظلم کے خلاف حتی الوسع احتجاج کرنا ہر مسلمان کا آئینی حق ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha